3 اگست 2026 - 18:24
صہیونی تجزیہ کار: ایران کے مقابلے میں امریکی کمزوری واشنگٹن کی عالمی حیثیت کے لیے خطرہ بن رہی ہے

صہیونی اخبار "معاریو" کے عسکری تجزیہ کار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے مقابلے میں امریکہ کی غیر یقینی پالیسی نہ صرف خطے میں اس کے کردار کو کمزور کر رہی ہے بلکہ چین اور روس جیسے حریفوں کے مقابلے میں بھی واشنگٹن کی عالمی حیثیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی اخبار "معاریو" کے عسکری تجزیہ کار اور نامہ نگار آوی اشکنازی نے ایران کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے کئی بار تہران کو فوجی کارروائی کی دھمکی دی، لیکن ہر مرتبہ عملی اقدام سے قبل اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے۔ انہوں نے ٹرمپ کے طرزِ عمل کو صہیونی ٹیلی ویژن کے ایک مزاحیہ کردار سے تشبیہ دی، جو ہمیشہ کارروائی کا وعدہ کرتا تھا مگر کبھی اسے عملی جامہ نہیں پہناتا تھا۔

آوی اشکنازی نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو جلد یا بدیر ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم واشنگٹن اس وقت ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانے سے گریز کر رہا ہے۔ ان کے بقول، یہ صورت حال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکی حکومت خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔

انہوں نے ایران، عراق، افغانستان اور نام نہاد "عرب بہار" کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنی سابقہ تزویراتی غلطیوں کو دہرا رہا ہے۔ ان کے مطابق، ایران پسپائی اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ خود کو اس محاذ آرائی میں کامیاب سمجھتا ہے، اس لیے واشنگٹن کو تہران کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

صہیونی تجزیہ کار نے ایران کے مقابلے کے لیے بعض عرب ممالک کی شمولیت سے ایک علاقائی اتحاد قائم کرنے کی بھی حمایت کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایسا اتحاد نہ صرف فوجی سطح پر روک تھام کی صلاحیت کو مضبوط کرے گا بلکہ خطے اور عالمی توانائی کی منڈیوں کو اتحاد کا واضح پیغام بھی دے گا، جس کے اثرات تیل اور گیس کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے مقابلے میں امریکہ کی موجودہ کمزوری مستقبل میں چین اور روس کے ساتھ عالمی مسابقت میں واشنگٹن کی حیثیت کو مزید کمزور کر سکتی ہے، کیونکہ یہ دونوں طاقتیں نئے محاذ کھول کر عالمی استحکام کو چیلنج کر سکتی ہیں، جبکہ امریکہ بیک وقت ان بحرانوں سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھے گا۔

آوی اشکنازی نے مزید دعویٰ کیا کہ صہیونی رژیم نے اپنی عسکری تیاریوں کو بدستور بلند سطح پر برقرار رکھا ہوا ہے، کیونکہ تل ابیب کا خیال ہے کہ امریکہ بالآخر ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی پر مجبور ہو جائے گا۔

انہوں نے غزہ جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے صہیونی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ بھی ٹرمپ کی طرح ایک سیاسی بن بست کا شکار ہیں۔ ان کے بقول، غزہ میں طویل جنگ جاری رکھنے کا نیتن یاہو کا تصور امریکی دباؤ کے باعث شدید چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔

اشکنازی نے دعویٰ کیا کہ زیرِ غور منصوبوں کے مطابق صہیونی رژیم کو غزہ کی پٹی سے انخلا کرنا پڑ سکتا ہے اور حماس کے کمانڈروں کے خلاف ہدفی کارروائیاں بھی روکنا ہوں گی، جو ان کے خیال میں موجودہ داخلی سیاسی حالات میں تل ابیب کی کسی بھی حکومت کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha